
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے گزشتہ دن اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور امتیازی سلوک کی روک تھام کے لیے قومی اقلیتی کمیشن کے قیام سے متعلق بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ مجوزہ کمیشن اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق کام کرے گا۔
سینیٹر علی ظفر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پیش کیا گیا، جہاں کمیٹی نے اس پر تفصیلی غور کے بعد منظوری دی۔ قانون کے تحت، کمیشن آئینی ضمانتوں اور اقلیتوں سے متعلق حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا جائزہ لے گا، امتیازی سلوک کی روک تھام کیلئے سفارشات دے گا اور عملدرآمد پر نظر رکھے گا۔
بل کے مطابق، وزیراعظم کی منظوری سے بننے والا یہ کمیشن 13 ارکان پر مشتمل ہوگا۔ ہر صوبے سے ایک اقلیتی نمائندہ، ایک خاتون، اور صوبے کی سب سے بڑی اقلیتی کمیونٹی کا نمائندہ شامل ہوگا، جبکہ اسلام آباد سے بھی ایک اقلیتی نمائندہ کمیشن کا حصہ بنے گا۔ اس کے علاوہ، وزارت انسانی حقوق، قانون و انصاف، بین المذاہب ہم آہنگی، اور وزارت داخلہ سے گریڈ 21 کے افسران بھی شامل ہوں گے۔
کمیشن کے چیئرمین اور ارکان کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔ بل کے تحت ایک 18 رکنی کونسل بھی تشکیل دی جائے گی جو کمیشن کی کارکردگی کی نگرانی کرے گی۔ کونسل میں تین ہندو، تین عیسائی، تین سکھ، ایک بہائی، دو مسلمان ارکان، اسلامی نظریاتی کونسل کا ایک ایگزیکٹو رکن اور صوبائی محکمہ انسانی حقوق یا اقلیتی امور کے نمائندے شامل ہوں گے۔
کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اقلیتی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات یا رپورٹس سرکاری اداروں سے طلب کرے۔ اگر مقررہ مدت میں معلومات فراہم نہ کی جائیں تو کمیشن خود بھی تحقیقات شروع کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، کمیشن شکایات کی نوعیت کے پیش نظر معلومات طلب کیے بغیر بھی انکوائری شروع کر سکے گا۔
مقامی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بل کی منظوری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد یہ بل اب سینیٹ کے مکمل ایوان اور قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔