اوورسیزتازہ ترینلائف سٹائل
ٹرنڈنگ

پوپ فرانسس 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے پوپ فرانسس نے 2013 میں کیتھولِک عیسائیوں کے روحانی پیشوا کا مسند سنبھالا تھا۔

رومن کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس پیر کو 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ویٹی کن حکام نے تصدیق کی کہ وہ پھیپھڑوں کے انفیکشن اور گردوں کی ابتدائی ناکامی کے باعث کئی ہفتوں سے ہسپتال میں زیر علاج تھے جو آج انتقال کر گئے۔

ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے فرانسس جن کا اصل نام جارج ماریو بیروگلیو تھا 2013 میں پہلے لاطینی امریکی پوپ منتخب ہوئے اور 12 سالہ دور میں انہوں نے کلیسا میں اصلاحات، خواتین کی شمولیت اور عالمی تنازعات پر فعال مؤقف اپنایا۔

پوپ کے انتقال کے بعد ویٹی کن میں نئے روحانی پیشوا کے انتخاب کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ سیسٹین چیپل میں خفیہ کونکلیو منعقد کیا جائے گا، جہاں 80 سال سے کم عمر کے کارڈینلز دو تہائی اکثریت سے نئے پوپ کا انتخاب کریں گے۔

2016 میں امریکہ-میکسیکو سرحد پر دیوار کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے کہا تھا کہ جو شخص دیواریں بنانے پر زور دیتا ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں، اور پل بنانے کی کوشش نہیں کرتا، وہ مسیحی نہیں ہو سکتا۔

ویٹی کن کے کیمرلینگو پوپ کے انتقال کی رسمی تصدیق کرتے ہیں، جو ان کا نام تین بار پکار کر جواب نہ ملنے پر ان کی وفات کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کے بعد عالمی سطح پر اطلاع دی جاتی ہے۔

نئے پوپ کے انتخاب کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ امیدوار کیتھولک اور مرد ہو، اگرچہ صدیوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ انتخاب صرف کارڈینلز میں سے ہوتا ہے۔ 120 اہل کارڈینلز انتخاب سے قبل خصوصی دعائیہ تقریب میں شرکت کے بعد سیسٹین چیپل میں ووٹنگ کے دور شروع کریں گے۔

نئے پوپ کے انتخاب تک ویٹی کن میں عبوری دور جاری رہے گا، جسے ’انٹرریگنم‘ کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس پر مرکوز ہیں کہ اگلا روحانی رہنما کون ہوگا، اور وہ چرچ کی مستقبل کی سمت کا تعین کیسے کرے گا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button