اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

ٹرمپ کا مڈل ایسٹ کا دورہ مکمل، بڑی سرمایہ کاری اور دفاعی معاہدے طے

دورے کے دوران سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے 2 ٹریلین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خلیجی ممالک کا چار روزہ دورہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے جس میں نہ صرف اہم دفاعی اور مالی معاہدے ہوئے ہیں بلکہ شام پر پابندیاں ہٹانے، ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے اور اسرائیل سے تعلقات جیسے اہم سفارتی موضوعات پر گفتگو بھی سامنے آئی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے خلیجی ممالک کا انتخاب کرتے ہوئے چار روزہ دورے کا اعلان کیا تھا جس میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کا دورہ شامل تھا۔ اس دورے کے دوران جہاں سفارتی تعلقات میں پیش رفت سامنے آئی ہے وہیں دفاعی اور تجارتی معاہدے بھی ہوئے ہیں۔ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مجموعی طور پر 2 ٹریلین ڈالر سے زائد کے سرمایہ کاری اور دفاعی معاہدے طے پائے ہیں۔

دورے کا آغاز سعودی عرب سے ہوا جہاں ریاض میں امریکی صدر اور ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ امریکی صدر کے دورے میں متعدد معاہدوں پر پیش رفت ہوئی، یہ معاہدے توانائی، دفاع، انفراسٹرکچر اور ہائی ٹیک شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دیں گے۔

سعودی عرب نے امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا، جس میں سے 142 ارب ڈالر امریکی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں امریکی صدر قطر پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ قطر ایئرویز نے امریکی بوئنگ کمپنی سے 160 طیاروں کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ٹرمپ نے دوحہ میں اس معاہدے کی دستخطی تقریب میں شرکت کی۔ اس معاہدے میں امریکی دفاعی ڈرونز ایم کیو نائن بی کی فروخت کی منظوری بھی شامل ہے، جو خطے میں عسکری تعاون کی مضبوطی کی علامت ہے۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اس معاہدے کو بوئنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا آرڈر قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

خلیجی ممالک کے چار روزہ دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو متحدہ عرب امارات پہنچے۔ ابوظبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے دوران، صدر ٹرمپ نے امارات کی جانب سے آئندہ 10 برسوں میں امریکا میں 1۔4 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے عہد کا خیر مقدم کیا۔

اس ملاقات کے دوران مصنوعی ذہانت کے میدان میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا جس میں نویڈیا کمپنی سے سالانہ پانچ لاکھ اے آئی چپس برامد کرنے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

صدر ٹرمپ نے دورے کے دوران ایک اہم اعلان کیا کہ امریکا شام پر عائد طویل المدتی پابندیاں ختم کر رہا ہے۔ انہوں نے دوحہ میں شام کے عبوری صدر احمد الشرع سے ملاقات کی، جنہیں ماضی میں امریکا القاعدہ سے تعلق کی بنیاد پر دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

اس کے علاوہ صدر ترمپ نے ایران کے ساتھ جلد جوہری معاہدہ ہو جانے کا امید بھی ظاہر کی۔

ٹرمپ کے اس تاریخی دورے کو نہ صرف تجارتی و دفاعی معاہدوں بلکہ خطے میں نئی امریکی حکمت عملی کے مظہر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ معاہدے اور اعلانات عالمی سفارتی اور معاشی منظرنامے پر دور رس اثرات ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، خصوصاً جب مڈل ایسٹ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز بن چکا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button