
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ مذاکرات میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان آبی تنازع حل نہ ہوا تو جنگ بندی کا حالیہ معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ اگر پانی کے مسئلے پر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو یہ جنگی اقدام کے مترادف سمجھا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کی شدید جھڑپوں کے باوجود پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر غور نہیں کیا، ہم ہر محاذ پر انڈیا کو شکست دے سکتے ہیں۔
یہ انٹرویو فریقین کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد پہلا باضابطہ بیان ہے۔ اسحٰق ڈار نے کہا کہ انڈین جارحیت کے جواب میں پاکستان کے پاس جوابی کارروائی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔
دوسری جانب دفترِ خارجہ نے گزشتہ روز انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیزی کی کوشش قرار دیا۔ مودی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اگر پاکستان سے مذاکرات ہوئے تو دہشت گردی کے خاتمے پر ہوں گے اور کشمیر پر بات ہوگی تو وہ آزاد جموں و کشمیر پر ہوگی۔
دفترِ خارجہ نے اس بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں مودی کی سیاسی موقع پرستی اور خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔