پاکستانتازہ ترینصحت
ٹرنڈنگ

شمشال میں پراسرار وبا سے 100 سے زائد یاک ہلاک

ہنزہ کے اس سرحدی علاقے میں مویشیوں کی اچانک اموات سے مقامی کسان شدید معاشی پریشانی میں مبتلا ہیں۔

گلگت بلتستان کے بلند پہاڑی علاقے شمشال میں مویشیوں پر پھیلنے والی ایک پراسرار بیماری کے باعث 100 سے زائد یاک ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ درجنوں جانور بیمار ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی کسان شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔

شمشال، جو گلگت بلتستان کا ایک انتہائی اونچائی پر واقع گاؤں ہے اور چین کی سرحد کے قریب واقع ہے، مویشی بانی کے حوالے سے معروف ہے۔ یہاں کی معیشت بڑی حد تک یاک پالنے پر منحصر ہے۔

شمشال نیچر ٹرسٹ کے جنرل سیکرٹری نے بتایا کہ چراگاہ میں بیماری پھیلنے کے بعد جانوروں کی اموات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے کسانوں کو شدید مالی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دو کم عمر یاک، جن کی قیمت لاکھوں روپے تھی، بیماری کا شکار ہو گئے۔

مقامی چرواہوں کے مطابق وادی میں کئی خاندان ایسے ہیں جن کی گزر بسر یاک اور دوسرے مویشیوں پر منحصر ہے۔ اس صورت حال نے ان کے لیے روزگار کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ ایک کسان نے بتایا کہ اس کے پانچ میں سے تین یاک مر چکے ہیں، جو اس کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک ویٹنری میڈیکل ٹیم کو فوری طور پر متاثرہ علاقے میں بھیجا گیا ہے تاکہ بیماری کی تشخیص اور جانوروں کے علاج کا عمل شروع کیا جا سکے۔

محکمہ لائیو سٹاک گلگت بلتستان کے مطابق ٹیم کو شمشال پہنچنے میں تین روز لگ سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں پانچ مئی کو اموات کی اطلاع ملی، ایک طبی ٹیم تشکیل دے کر ضروری دوائیں ساتھ روانہ کر دی گئیں۔

ابتدائی معلومات کی بنیاد پر 108 یاک ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 80 بیمار ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیماری کی نوعیت اور پھیلاؤ سے متعلق حتمی معلومات ٹیم کی واپسی کے بعد ہی دستیاب ہوں گی۔

جانوروں کی افادیت پر بات کرتے ہوئے ایک مقامی حیوانی ماہر نے بتایا کہ یاک گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں نہ صرف خوراک کا ذریعہ ہیں بلکہ ان کی کھال، اون اور بال بھی رہائش، لباس اور دیگر ضروریات پوری کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے بقول یاک مقامی ثقافت، معیشت اور روزگار میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف مقامی چرواہوں کا ذریعہ معاش متاثر ہو گا بلکہ وادی کی معاشی ساخت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button