63

انڈے میں محفوظ 72 ملین سال پرانا ڈائنوسار دریافت

سائنس دانوں نے چین کے پہاڑی سلسلے سے 72 ملین سال پرانے ڈائنو سار کے انڈے میں محٖفوظ حالت میں موجود ایمبریو دریافت کرلیا ہے۔

اس انڈے کو دریافت کرنے والی ٹیم میں شامل برطانیہ کی ایڈن برگ یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیو بروسٹے کا کہنا ہےکہ اس ایمبریو (جنین، وضع حمل کے ابتدائی دنوں بیضے کا ارتقاء) کو جنوبی چین میں گینزو کے پہارٰ سلسلے سے دریافت کیا گیا ہے۔

سائس دانوں کا کہنا ہے کہ 72 ملین سال پرانےاس انڈے سے بچہ نکلنے کے قریب ہی تھا۔ اس انڈے کا تعلق بنا دانتوں والے ڈائنوسارز کی نسل تھیروپوڈ سے ہے۔

اسٹیو کے مطابق یہ اب تک کا دریافت کیا گیا سب مکمل اور شاندار فوسل ہے۔ خول میں موجود یہ ڈائنو سار بلکل ایک پرندے کی طرح نظر آرہا ہے۔ انڈے میں مکمل طور پر محفٖوظ اس جنین سے ہمیں دور جدید کے پرندوں اور ڈائنو سارز کے درمیان اہم ربط اور خصوصیات کے بارے میں مزید جاننے میں مدد ملے گی۔

برمنگھم یونیورسٹی اور بیجنگ میں واقع چین کی یونیورسٹی آف جیو سائنسز کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس ایمبریو کو ’بے بی یِنگ لِنگ‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کی ہیئت ڈائنو سارز کے دوسرے جنین سے منفرد ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ ایمبریو نے انڈے سے باہر نکلنے سے قبل اپنے جسم کو موڑ کر سر بازوؤں کے درمیان کرلیا تھا۔

دور جدید کے پرندوں میں ایمبریو کی اس کیفیت کو ’ ٹکنگ‘ کہا جاتا ہے جو کہ اس سے پہلے کسی ڈائنو سارز کے انڈے میں نہیں پائی گئی۔ اس حالت میں موجود زیادہ تر ایمبریو انڈے سے باہر نکلنے میں ناکامی کے بعد اندر ہی مر جاتے ہیں۔

سائنس دانوں نے بتایا کہ ہم نے اس ایمبریو کو بہترین حالت میں محفوظ کرلیا ہے اور اس سے ہمیں ڈائنوسارز کی نشوونما اور تولیدی عمل سے متعلق بہت سارے سوالوں کے جواب تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں