پاکستانتازہ ترینلائف سٹائل

جہیز نہیں، مہر اور وقار پر مبنی شادی کو فروغ دیا جائے: سپریم کورٹ

عدالت نے قرار دیا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مہر واحد لازمی مالی فریضہ ہے جو دلہے کو ادا کرنا ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ ایک فیصلے میں کہا کہ پاکستانی معاشرے کو چاہیے کہ وہ شادی کو سادگی، باہمی وقار اور مہر جیسے اسلامی اصولوں پر استوار کرے، اور رجعت پسندانہ جہیز کلچر کو ترک کرے، جو خواتین کے معاشی استحصال اور آئینی برابری کے خلاف ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے یہ ریمارکس اُس وقت دیے جب عدالت نے محمد ساجد کی اپیل پر سماعت کی، جو لاہور ہائی کورٹ کے 17 اکتوبر 2022 کے اُس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں اُن کی سابقہ اہلیہ شمسیٰ اصغر کے حق میں جزوی فیصلہ دیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے سات صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ ”جہیز اگر رضا مندی اور سماجی دباؤ سے پاک نہ ہو تو یہ استحصال اور عدم مساوات کو فروغ دیتا ہے، جو آئین اور اسلامی اقدار سے متصادم ہے۔“

عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ دلہن کو دی گئی کوئی بھی جائیداد یا سامان اس کی ذاتی ملکیت ہے، جس پر شوہر یا اس کے اہل خانہ کا کوئی قانونی یا اخلاقی دعویٰ نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے کہا کہ دلہن کے خاندان کی طرف سے دیا گیا کوئی بھی تحفہ مکمل طور پر رضاکارانہ ہونا چاہیے، اور اس پر کسی قسم کا سماجی دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر ایسے تحائف دباؤ کے تحت دیے جائیں، تو وہ کمزور مالی حیثیت رکھنے والے خاندانوں کے لیے بھاری بوجھ بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یاد دہانی کروائی کہ اسلام میں صرف مہر ہی وہ واحد لازمی مالی فریضہ ہے جو دلہے کو دلہن کو دینا ہوتا ہے، تاکہ عورت کو مالی خودمختاری حاصل ہو سکے۔

عدالت نے ایک کیس کی سماعت کے دوران یہ اصولی مؤقف اختیار کیا کہ دلہے یا اس کے اہل خانہ کو دیے گئے تحائف کو جہیز کا حصہ تصور نہیں کیا جا سکتا، بلکہ وہ صرف تحائف ہیں، جن کا دلہن کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں۔ اس بنیاد پر عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور تحائف و جہیز کے درمیان قانونی فرق کو واضح کیا۔

فیصلے میں زور دیا گیا کہ ایسے تمام معاملات میں خواتین کے معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، اور سماجی دباؤ کے تحت دیے جانے والے تحائف کو قانونی جہیز تصور نہ کیا جائے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button