
برلن میں خواتین کے لیے علیحدہ کمپارٹمنٹ کا مطالبہ، 9 دن میں 15 ہزار دستخط
فیمینسٹ موسیقار نے برلن ٹرانسپورٹ میں خواتین کے لیے علیحدہ کمپارٹمنٹ کے مطالبے کے ساتھ آن لائن مہم شروع کی۔
برلن میں خواتین کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میں علیحدہ کمپارٹمنٹ مختص کرنے سے متعلق آن لائن مہم نے صرف نو دنوں میں 15 ہزار سے زائد دستخط حاصل کر لیے، جو ایک میٹرو ٹرین میں لڑکی کی خفیہ تصویر لینے کے واقعے کے بعد شروع کی گئی۔
یہ مہم 14 اپریل کو ایلیکز بورن نامی ایک فیمینسٹ پنک راک موسیقار نے شروع کی، جنہوں نے ریاستی ٹرانسپورٹ ادارے ‘بی وی جی’ سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین، ہم جنس پرست، اور ٹرانس افراد سمیت ‘فلنٹس’ کمیونٹی کے لیے ٹرینوں، ٹراموں اور بسوں میں علیحدہ کمپارٹمنٹس مختص کرے
درخواست میں تجویز دی گئی ہے کہ گاڑیوں کے پچھلے حصے میں جامنی رنگ کی نشستوں کے ذریعے علیحدہ کمپارٹمنٹ بنائے جائیں، کیونکہ اکثر ہراساں کرنے والے مرد وہیں بیٹھتے ہیں۔
بی وی جی کے ترجمان نے مطالبے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حفاظتی اقدامات کافی ہیں۔ ان کے بقول اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہو تو وہ عملے یا ایمرجنسی کال پوائنٹس سے رابطہ کر سکتا ہے۔
یہ مطالبہ گرین پارٹی کی اُس پرانی تجویز سے مطابقت رکھتا ہے جس میں خواتین کے لیے مخصوص جگہیں مختص کرنے کی بات کی گئی تھی۔ اس تجویز پر نئی توجہ اُس وقت دی گئی جب فروری 2024 میں ایک چلتی میٹرو ٹرین میں خاتون سے مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔
بی وی جی کی سالانہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق، برلن کی پبلک ٹرانسپورٹ میں جنسی جرائم کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 2014 میں ایسے 68 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جو 2023 میں بڑھ کر 313 ہو گئے۔
برلن پولیس کا کہنا ہے کہ 2017 اور 2021 کے دوران جنسی جرائم سے متعلق قوانین میں سختی کے بعد رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد میں اضافہ جزوی طور پر ان قانونی ترامیم کا نتیجہ ہے۔
جرمنی کی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی کی ڈپٹی چیئرپرسن بیٹریکس فان اسٹورش نے اس اضافے کا الزام غیر منظم امیگریشن پر عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شروع میں گرین پارٹی جرمنی کو ایک ’رنگین‘ معاشرے کا خواب دکھاتی ہے، اور انجام میں عوام کو ایران اور سعودی عرب جیسی صنفی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دنیا کے کئی بڑے شہروں بشمول قاہرہ، ریاض، دبئی اور تہران میں خواتین کے لیے پہلے ہی علیحدہ میٹرو کمپارٹمنٹس موجود ہیں، جسے بعض حلقے خواتین کے تحفظ کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں۔