
فلپائن میں مسلمانوں کی اسلامی تدفین کے لیے قانون نافذ
اسلامک بیریئل ایکٹ کے نفاذ سے مسلمانوں کا فوری تدفین کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا۔
فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت ملک بھر میں مسلمانوں کو اسلامی طریقے کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر تدفین کی قانونی اجازت حاصل ہو گئی ہے۔ نیا قانون 11 اپریل کو دستخط کے بعد نافذ ہوا اور پیر کو سرکاری گزٹ میں شائع کیا گیا۔
فلپائن اسلامک بیریئل ایکٹ کے تحت مسلم میتوں کی تدفین بلا تاخیر عمل میں لائی جائے گی، حتیٰ کہ موت کے سرٹیفکیٹ کے بغیر بھی تدفین کی اجازت ہوگی۔قانون کے مطابق، متوفی کے قریبی رشتہ دار یا تدفین کرنے والا شخص تدفین کے 14 روز کے اندر مقامی صحت افسر کو اطلاع دینے کا پابند ہوگا، جو بعد ازاں موت کی وجہ کی تصدیق کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔
قانون میں ہسپتال، کلینک، قید خانہ یا کسی بھی جگہ جہاں میت موجود ہو، وہاں سے میت کی حوالگی 24 گھنٹوں کے اندر لازم قرار دی گئی ہے تاکہ اسلامی طریقہ کار کے تحت بروقت تدفین ممکن ہو۔
ایسی کسی بھی تاخیر یا روکاوٹ، جیسے اسپتال یا کفن دفن کی فیس کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر میت کی حوالگی سے انکار کی صورت میں سزا مقرر کی گئی ہے۔ خلاف ورزی پر ایک سے چھ ماہ قید، 50 ہزار سے ایک لاکھ فلپائنی پیسوس یعنی تقریباً 882 سے 1,764 امریکی ڈالر جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
یہ قانون طویل عرصے سے مسلم کمیونٹی کا مطالبہ رہا ہے، جو اسلامی تعلیمات کے مطابق جلد از جلد تدفین کو لازمی قرار دیتی ہے۔ مسلم رہنماؤں نے قانون کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے مذہبی آزادی کے احترام کی سمت ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔