تازہ ترینسائنس ٹیکنالوجی

میٹا کا نابالغ صارفین کی شناخت کے لیے اے آئی استعمال کا فیصلہ

انسٹاگرام پر بچوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر میٹا کے خلاف امریکی ریاست میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے نابالغ صارفین کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال میں توسیع کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بعض صورتوں میں پلیٹ فارم اکاؤنٹ سیٹنگز کو خودکار طور پر تبدیل کر دے گا۔ یہ اقدام امریکا میں پیر سے آزمائشی طور پر نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ ایسے اکاؤنٹس کی شناخت کی جا سکے جن میں عمر بالغ ظاہر کی گئی ہو، لیکن اصل میں صارف کی عمر 18 سال سے کم ہو۔

انسٹاگرام نے 2024 میں اعلان کیا تھا کہ وہ صارفین کی عمر کا تعین کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کر رہا ہے۔ یہ نظام ایسے اشارے تلاش کرتا ہے جو کسی صارف کے کم عمر ہونے کی نشاندہی کریں، جیسے دوستوں کے پیغامات میں ہیپی 16تھ برتھ ڈے لکھا ہونا۔ اس کے علاوہ پلیٹ فارم یہ بھی دیکھتا ہے کہ مخصوص عمر کے افراد کن طرز کے مواد سے کس طرح تعامل کرتے ہیں۔

نابالغ صارفین کے اکاؤنٹس کے لیے انسٹاگرام پر پہلے سے زیادہ محدود سیٹنگز نافذ ہوتی ہیں۔ ایسے اکاؤنٹس بذات خود نجی ہوتے ہیں، اجنبی افراد انہیں پیغامات نہیں بھیج سکتے، اور پلیٹ فارم ان پر مخصوص قسم کے مواد کی رسائی بھی محدود رکھتا ہے۔ گزشتہ برس انسٹاگرام نے تمام نابالغ صارفین کے اکاؤنٹس کے لیے حفاظتی فیچرز کو خودکار طور پر فعال کر دیا تھا۔

اب کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر کسی اکاؤنٹ پر عمر بالغ ظاہر کی گئی ہو مگر سسٹم اسے نابالغ سمجھے، تو انسٹاگرام خودکار طور پر سخت حفاظتی سیٹنگز نافذ کر دے گا۔ کمپنی نے تسلیم کیا ہے کہ اے آئی سسٹم سے غلطیاں ممکن ہیں، تاہم صارفین کو اپنی سیٹنگز واپس تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

میٹا بتدریج ایسے حفاظتی اقدامات متعارف کرا رہا ہے جن کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پلیٹ فارم پر بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ یہ اقدامات والدین اور قانون سازوں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ سال یورپی یونین نے میٹا کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا تاکہ جانچا جا سکے کہ کمپنی نوجوان صارفین کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔

انسٹاگرام پر بچوں کو نشانہ بنانے والے افراد سے متعلق تشویش ناک رپورٹس سامنے آنے کے بعد امریکا کی ریاست یوٹاہ کے اٹارنی جنرل نے کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ علاوہ ازیں، بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے بڑی ٹیک کمپنیوں میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ گوگل، میٹا، اسنیپ اور ایکس (سابق ٹوئٹر) کے درمیان اس بات پر بحث جاری ہے کہ نابالغ صارفین کے تحفظ کی اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ رواں سال مارچ میں یوٹاہ میں ایک بل کی منظوری کے بعد گوگل نے میٹا پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یہ ذمہ داری ایپ اسٹورز پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button