
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو قانونی قرار دے دیا ہے، جس سے اکتوبر 2023 کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جس میں ان ٹرائلز کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔
تقریباً 5 ماہ تک جاری رہنے والی سماعتوں کے بعدسپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے پیر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جسے آج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سنایا گیا۔
یہ فیصلہ 9 مئی 2023 کے واقعات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جب سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے، جن میں فوجی تنصیبات پر حملے بھی شامل تھے۔
سپریم کورٹ نے سویلین کے ملٹری ٹرائل کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے لیے گزشتہ سال 7 رکنی آئینی بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 9 دسمبر کو اپیلوں پر سماعت شروع کی تھی۔
بعدازاں مقدمے کی سماعت کے دوران آئینی عدالت نے 13 دسمبر 2024 کو 9 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دیتے ہوئے انہیں سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمہ کے فیصلے سے مشروط قرار دیا تھا۔ اس کے بعد فوجی عدالتوں میں دو مرحلوں میں نو مئی کے واقعے میں ملوث افراد کو سزائیں سنائی تھیں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے ملک میں قانونی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے، جہاں کچھ ماہرین نے اس اقدام کو سیکیورٹی کے لیے ضروری قرار دیا ہے، وہیں نے سویلینز کے لیے شفاف اور آزادانہ ٹرائل کے حق پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔