پاکستانتازہ ترین
ٹرنڈنگ

انڈیا کے حملے سے خطے میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

پاکستان نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ وہ انڈین جارحیت کا مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کو آگاہ کیا ہے کہ 6 مئی کو انڈین فضائیہ کی جانب سے مریدکے، بہاولپور، کوٹلی اور مظفرآباد میں کیے گئے حملوں نے جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتوں کو خطرناک تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور پاکستان اس جارحیت کا مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ایک بیان میں کہا کہ انڈین حملے میں سٹینڈ آف ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جو پاکستان کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق حملوں میں عام شہری، بشمول خواتین اور بچے مارے گئے جب کہ کمرشل فضائی ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔

پاکستان کی جانب سے اسلام آباد میں تعینات انڈین ناظم الامور گیتیکا سری واستو کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ انڈیا کی یہ بلااشتعال کارروائی کھلی جارحیت کے مترادف ہے، جس کی پاکستان سخت مذمت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین، اور ریاستوں کے مابین تعلقات کے مسلمہ اصولوں سے متصادم ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے سلامتی کونسل کو ارسال کردہ خط میں واضح کیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی انڈین کارروائی کا مناسب اور مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حالیہ حملے کے تناظر میں پاکستان عالمی برادری کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر رہا ہے تاکہ قانونی اور سفارتی سطح پر مؤثر دفاع یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستانی مشن نے اعادہ کیا کہ کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق برقرار رکھتا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button