
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں صحت و زندگی کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ: ایمنسٹی انٹرنیشنل
پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی شدید گرمی اور سیلابوں سے بچوں اور بزرگوں کی صحت اور زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، جبکہ صحت کی سہولیات اور ہنگامی ردعمل کے نظام ان چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی مشترکہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی آفات، جیسے کہ سیلاب اور شدید گرمی کی لہریں، بچوں اور بزرگوں کی صحت و زندگی کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان آفات کے بعد صحت کے نظام کی ناکامی اور ہنگامی ردعمل کے ناکافی ہونے کے باعث کئی ایسی اموات ہو رہی ہیں جو بہتر انتظامات ہونے کی صورت میں ٹل سکتی تھیں ۔
انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک نے تحقیق کے دوران سیلاب سے متاثرہ ضلع بدین میں اموات کا تجزیہ کیا۔ بدین میں ستمبر 2022 میں اموات کی شرح سال کے اوسط سے 71 فیصد زیادہ تھی، جس کی بڑی وجہ بچوں اور بزرگوں میں متعدی امراض اور سانس کی بیماریاں تھیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 210 افراد سے انٹرویوز کیے، جن میں 90 ایسے افراد شامل تھے جن کے قریبی رشتہ دار سیلاب یا ہیٹ ویو کے دوران جان بحق ہوئے۔ ان انٹرویوز سے معلوم ہوا کہ متاثرہ افراد کو بروقت طبی امداد نہیں مل سکی، اور اکثر جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
پاکستان، جو عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں صرف 1% حصہ ڈالتا ہے، دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی آفات کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا صحت کا نظام پہلے ہی کمزور ہے، اور موسمیاتی آفات کے دوران یہ مزید بوجھ برداشت نہیں کر پاتا۔ بچوں اور بزرگوں کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر جب صحت کی سہولیات، صاف پانی، اور مناسب رہائش دستیاب نہیں ہوتی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائے، ہنگامی ردعمل کے نظام کو بہتر بنائے، اور ڈیٹا جمع کرنے کے نظام کو مؤثر بنائے تاکہ بچوں اور بزرگوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی برادری، خاص طور پر وہ ممالک جو زیادہ گرین ہاؤس گیسز خارج کرتے ہیں، پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کریں تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹا جا سکے۔