
پاکستان کے برطانیہ میں ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے برطانوی حکومت سے سکیورٹی کے انتظامات میں فوری بہتری کی درخواست کی ہے۔ویانا کنونشن نے ویانا کنونشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پر لازم ہے کہ وہ غیر ملکی سفارتی مشنز کی حفاظت کو یقینی بنائے۔
یہ بیان 27 اپریل کی صبح لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن پر حملے کے بعد آیا، جب ایک شخص نے عمارت پر پتھراؤ کیا، کھڑکیاں توڑیں اور ہنگامہ آرائی کی۔ واقعے کے فوراً بعد برطانوی پولیس نے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا، جس کی شناخت 40 سالہ انکت کے طور پر ہوئی ہے۔ تاہم، اس کی شہریت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ 25 اپریل کو ہائی کمیشن کے باہر ہونے والے احتجاج کے بعد پیش آیا، جس میں انڈیا اور برٹش انڈین کمیونٹی کے افراد شریک تھے۔ مظاہرین نے پاکستان اور اسلام مخالف نعرے لگائے، انڈین پرچم لہرایا اور زعفرانی لباس پہنا، جو ہندوتوا نظریات سے منسوب کیا جاتا ہے۔
احتجاج کے دوران کچھ افراد نے پاکستانی سفارتی عملے اور برطانوی پولیس اہلکاروں کو نسلی اور مذہبی بنیادوں پر گالیاں بھی دیں۔
پاکستانی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی پولیس سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ انکت سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔ حکام نے یاد دلایا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب برطانیہ میں پاکستانی سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہو۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکام سے ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستانی سفارتی مشنز اور عملے کی حفاظت کے لیے سکیورٹی انتظامات میں بہتری لائی جائے۔ ہائی کمیشن نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ برطانیہ ویانا کنونشن کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے