
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت عوام کو 52 ارب روپے سے زائد کا ریلیف منتقل کرنے کے لیے نیپرا کو درخواستیں جمع کرا دیں۔ 5 انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے بند ہونے کے اثرات شروع ہونے والے ہیں۔نیپرا کے مطابق نیپرا میں بجلی صارفین کو 52 ارب 12 کروڑ روپے کے ریلیف کی درخواستیں جمع کر لی گئی ہیں۔ درخواستیں رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے جمع کرائی گئی ہیں۔نیپرا کے مطابق درخواستوں میں کپیسٹی چارجز کی مد میں 50 ارب 66 کروڑ روپے کی کمی کی درخواست کی گئی ہے جب کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز کی مد میں 2 ارب 66 کروڑ روپے کی کمی کی درخواستیں ہیں۔تاہم آپریشن اور مینٹی نینس کے لیے 2 ارب 69 کروڑ روپے کے اضافے کی درخواست کی گئی ہے۔ اکتوبر سے دسمبر 2024 تک کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق بجلی کے صارفین پر بھی ہوگا۔نیپرا درخواستوں کی سماعت 12 فروری کو کرے گی جس میں کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کا فیصلہ بھی کیا جائے گا۔نیپرا ذرائع کے مطابق سماعت سے قبل یہ بتانا ممکن نہیں کہ صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی کتنی سستی ہوگی۔یاد رہے کہ حکومت نے 2400 میگاواٹ صلاحیت کے 5 آئی پی پیز کو مذاکرات کے بعد بند کر دیا تھا۔ 52 ارب روپے سے زائد کے متوقع ریلیف کی بڑی وجہ ان 5 آئی پی پیز کا ختم ہونا ہے۔