نئے بجٹ کے دوران بھارت میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف، 12 لاکھ بھارتی روپے (38 لاکھ 62 ہزار پاکستانی روپے) کی سالانہ آمدن کو عملی طور پر انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا اور اس طرح ریاست 3.2 کھرب پاکستانی روپے کی آمدنی سے محروم ہو جائے گی۔بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں کہا کہ گھریلو استعمال، بچت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ متوسط طبقہ ہندوستان کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔نرملا سیتھا رمن نے کہا کہ تمام ٹیکس دہندگان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ٹیکس کی درجہ بندی اور شرحوں میں وسیع تبدیلیاں کی گئی ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ سالانہ 1.2 ملین روپے (13,800 امریکی ڈالر، 3.8 ملین 62 ہزار پاکستانی روپے) تک کمانے والے افراد اب انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ہندوستانی وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ حد 7 لاکھ سالانہ کے پچھلے ٹیکس فری دائرے سے تقریباً دگنی کر دی گئی ہے۔





