
عمران خان کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے 190 ڈالر کیس کے جواب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہے جس میں اربوں روپے کا ڈاکو مارا گیا ہے۔ جس سے راہ فرار اختیار نہیں کی گئی، انصاف کا بول بالا ہوا، عمران خان اپنی بے عزتی ثابت نہیں کر سکتے۔اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس سے باہر نکلنے والے وزیر قانون کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکیل نے بے مثال ثبوت پیش نہیں کیے اور ان کا جواب نہیں دیا، چند دنوں سے گڑبڑ کرنے والے مجرم کو مذہب کارڈ کے پیچھے پیچھے چھوڑ دیا۔ چھپانے کی کوشش کی گئی، کیس کو سیاسی بنیادوں اور میڈیا پر لڑا گیا۔عطارڑ نے کہا کہ ہر مذہب کارڈ اور ریاست کا نام استعمال کرتا ہے، ان سب کو ایک طرف قانونی طور پر جواب دیا جائے، 190 پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سب سے بڑا ہو گا جس سے راہ فرار اختیار کی جائے گی۔ نہیں آپ کی تلاش۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آج انصاف کا بول بالا ہوا، یہ تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہے، پی ٹی آئی کو اپیل کا حق حاصل ہے لیکن اس سے قبل یہ ثابت کرنا ثابت نہیں ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی مذہب کو اپنی مرضی کے مطابق گھناؤنے جرم کو چھپانے کے لیے استعمال نہ کرنا چاہیے، قانون کے قوانین کے مطابق، آج کے بعد پاکستان میں اپنے آپ کو میگا میں شامل کرتے ہوئے کئی بار سوچا جانا چاہیے۔اس موقع پر وزیر اعظم قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب میں کہا کہ بند لفافے میں ایک تجویز لائی گئ، ہر ایک کو سیاست سے جوڑنا درست ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرائل عدالت میں بڑے تحمل کا کہنا ہے کہ راجہ اکبر نے کہا کہ یہ ایک خفیہ معاہدہ تھا، غیر قانونی طور پر وطن سے بھی پیسہ عوام کو حاصل ہوتا ہے۔وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہر چیز کو سیاست سے جوڑنا غیر مناسب ہے، یہ کریمنل کیس تھا، ایوان کے نظام، ضابطے اور قانون کے تحت چلتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بند لفافے میں ایک دستاویز لائی گئی، شہزادہ اکبر صاحب نے کہا کہ یہ ایک خفیہ معاہدہ ہے، یہ معاہدہ کریں گے تو 190 ڈالر پاؤنڈ حکومت پاکستان کو منتقل کر دے گی، یہ جان کر اپرول لی گئی۔ یہ رقم حکومت پاکستان نہیں آ رہی۔مسلم لیگ ن طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ سزا کے بعد این آر کا تاثر ختم کر دیا گیا، یہ کوشش کر رہے تھے کہ بات کریں اور مل جائیں، بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی کو فرنٹ مین بنایا تھا۔ آخر کار ان کا اصل سامنے آ گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مسائل، آپس میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 پائونڈ پاؤنڈ کے خلاف جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خان عمران کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال اور ان کی اہلیہ مجرمہ کو 14 سال کی سزا سنائی۔ سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد بشریٰ بی کو کمرہ عدالت کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔احتساب عدالت کے ناصر جاوید رانا نے عمران خان کو 10 ہزار اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کیا، جرمانے کی عدم ادائیگی پر عمران خان کو مزید 6 ماہ جب کہ مجرم بشریٰ بی بی کو 3 ماہ قید کی سزا دی گئی۔ خداتنا