
حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آج ہو رہا ہے، مذاکراتی کمیٹیوں کے رہنماؤں کی پارلیمنٹ ہاؤس میں آمد شروع ہوگئی ہے۔ تحریک انصاف آج اپنے تحریری مطالبات پیش کرے گی۔اسد قیصر نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی سے بات کروں گا، آج ہم جوابی مؤقف حکومت کو جواب دیں گے، اب آگے حکومت کا ردعمل سامنے آیا ہے کہ حکومت کو سنجیدگی دکھاتی ہے۔اسد قیصر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے حکومت کو بات کرنے کا موقع دیا، اب یہ بیان ہے کہ حکومت ملک کو سیاسی بحران سے بچانے کے لیے کیا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مؤقف کے فارم 47 سے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال کو ہم بات کرتے ہوئے بات کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر کا اس لفظ سے کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے دوٹوک دیا ہے، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر حکومت نہیں مانتی تو پھر نہیں کہہ سکتا، اگر آج ہمارے دو مطالبات نہ مانے گئے تو دوبارہ بات نہیں کروں گاانہوں نے کہا کہ آج حکومت کو آگے بڑھایا تو بات آگے چلیں گے، اگر حکومت نے معاملہ درست نہ کیا تو یہ آخری بات ہے۔جوڈیشل کمیشن پر حکومت رضا مند نہیں ہوتی تو اس کی مخالفت نہیں ہوتی، صاحبزادہ حامد رضااپ ڈیٹ کی مذاکراتی کمیشن کے رکن صاحبزادہ حامد نے کہا کہ آج تمام مطالبات تحریری طور پر دے دیں گےپی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جوشل کمیشن کے لیے حکومت تو کلڈی ہے، قانون کےمطابق ضمانت اور سزا معطلی حکومت کے اختیار میں ہے۔دوسری حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات پر 31 جنوری سے پہلے میری طرف سے جواب دے گی، بات چیت میں بھی کوئی معجزہ گزر رہا ہے، جہاں مذکرت ہو رہا ہوں۔ ہمارے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے سروکار۔