اوورسیز

ٹرمپ کیلئے پاناما کینال کی واپسی کیوں اہمیت کی حامل؟

دنیا کے 2 اہم سمندروں یعنی بحرالکال اور بحرِ اقیانوس کو ملانے والی پاناما کینال جس کی ملکیت پاناما کے پاس ہے لیکن اس کی امریکہ کا کردار کلیدی ہے۔ خاص طور پر امریکہ کے لیے اس کی سطح پر اس کی اہمیت ہوتی ہے اور اگر یہ نہ ہو تو امریکی جہازوں کو مغرب اور مشرق کے درمیان 8000 ناٹیکل میل (1500 کلو میٹر) کا فاصلہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ تعمیر کے بعد کافی کم ہو گیا۔اس نہر کا انتظام 1979ء میں امریکہ سے اور پاناما مل کر چلا رہے ہیں تاہم 31 دسمبر 1999ء کو ٹورج کارٹر ایکٹ کے تحت اس کینال کا انتظام مکمل طور پر پاناما کے سپرد کر دیا گیا۔13 جون 2013ء کو چین اور پاناما کے درمیان باضابطہ تعلقات کا اعلان کیا، چین نے کہا کہ چین نے اقتصادی لحاظ سے جہاں ترقی کی ہے، وہیں جنوبی امریکی ریاستوں سے تعلقات میں آپس میں تعاون کیا گیا، اقتصادی محاذ آرائی کی وجہ سے چین کی بات پاناما نہ ہونے کے برابر ہے۔ بنینو منتخب امریکی صدر نے پاناما کینال پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاناما کینال پر غیر معامولی سخاوت کا مظاہر کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شاید یہ غلط فہمی میں چلی گئی۔دوسری طرف چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاناما کو پاناما کا اہم قومی اثاثہ قرار دیا گیا۔پاناما کے صدر ہوزے راؤل نے پاناما کینال پر کنٹرول کی بات کرتے ہوئے امریکہ کے نو منتخب صدر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کی آزادی پر کوئی سمجھوتا ​​نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاناما کینال نے کہا کہ چین پر کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے، کسی بھی جگہ پر مقرر نہیں کیا گیا، کینال پاناما کی ملکیت ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button