
پارلیمانی حکومت سے مدارس رجسٹریشن سے متعلق امیدواری آرڈیننس کا فیصلہ کیا ہے۔ صدارتی آرڈیننس کی تیاری کے لیے وزارت قانون کو ختم کر دیا گیا۔حکومتِ پاکستان اور جمع علمائے اسلام (ف) کے درمیان مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل پر معاملات کی منظوری اور حکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے مطالبات تسلیم کرنے کے بعد حکومتِ پاکستان نے کہا تھا کہ پاکستان کے صدرِ اعظم کے درمیان مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق ہے۔ ایک ترمیمی آرڈیننس جاری ہے یا پھر اس میں ترمیمی بل پیش کیا جائے گا۔ جس کے تحت مدارس کو سوسائٹی ایک کے تحت رجسٹریشن کی اجازت دی جا سکتی ہے اور جو مدارس وزارتِ موجودہ نظام تعلیم کے ساتھ منسلک ہونا چاہتے ہیں اسی آرڈیننس کے لیے قانونی کور بھی بننا چاہیے۔حکومتی بلوچستان کے مطابق وزارت تعلیم کے ساتھ منسلک مدارس کی رجسٹریشن کے لیے اس وقت کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ وزارتِ تعلیم کے ساتھ مدارس کو علما اور حکومت کے درمیان معاہدے کے بعد طالبان کی طرف سے ایک انتظامی روشنی قائم ہونے والی مذہبی تعلیم سے متعلق ڈائریکٹو کیریٹ سے رجسٹریشن کیا جا رہا ہے۔اس طرح نہ صرف وزارتِ تعلیم کے ساتھ منسلک مدارس کی رجسٹریشن کے لیے عمل کو قانونی ڈھانچہ مل جائے گا بلکہ صدرِ پاکستان کی جانب سے مدارس میں رجسٹریشن کی منظوری دی جائے گی، بل کہ منظور شدہ درخواستوں کو بھی پارٹی آرڈیننس کے ذریعے حل کیا جائے گا۔آزادی کا کہنا ہے کہ آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان اور صدر آصف زرداری سے ملاقاتیں کیں۔انہوں نے بتایا کہ مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق آرڈیننس پر جمعیت علمائے اسلام سے دوسرے اسٹیک ہولڈرز نے اتفاق کیا۔نئے آرڈیننس میں ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم اور سوسائٹی رجسٹریشن میں ترمیم کے تحت مدارس کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان رواں برس اکتوبر میں 26 ویں آئینی ترمیم کی پیش کش میں اپنے سیاسی جماعتوں کے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے مدارس کی رجسٹریشن کے لیے سوسائٹی ایکٹ میں ترمیم بل کی شرط کی شرط تسلیم کرنے میں کامیاب ہوئے۔مدارس رجسٹریشن سے متعلق بل 20 اکتوبر کو منظور ہوا اور اگلے روز 21 اکتوبر کو قومی اسمبلی نے اس کی منظوری دی جس کے بعد اسی روز اسے دستخط کرنے کے لیے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو بھجوا دیا گیا۔تاہم صدر پاکستان تاحال اس بل پر دستخط نہیں کرتے جس کی وجہ سے مدارس کی رجسٹریشن بل قانون کی آپشن نہیں ہے۔صدر پراعتراض پاکستان نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد بل تعلیم امن آباد اس کے لیے صرف اسلام کی حد تک اس طرح کی قانون سازی کے لیے خطرہ ہے۔صدر نے اس بل سے فرقہ واریت اور دیگر تفرقہ انگیز رجحانات کے خدشے کے ساتھ پاکستان کے لیے ایف اے ٹی ایف، جی ایس پی پلس اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اظہار خیال کرنے کا بھی حصہ ظاہر کیا۔مولانا فضل الرحمان مدارس رجسٹریشن بل کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری نہ کرنے کی صورت میں متعدد بار اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا عندیہ دے گا۔ 17 دسمبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ مدارس بل میں کوئی ترمیم قبول نہیں کی جائے گی اور اگر بات نہ کی جائے تو فیصلہ آیا کہ متبادل میدان میں۔یاد رہے کہ مدارس کے 15 اجتماعات پانچ بورڈز سے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہیں جو رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کے تحت حق میں ہیں۔ 10 مدارس بورڈز بل کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ وہ وزارتِ تعلیم کے موجودہ نظام کے ساتھ منسلک ہونا چاہتے ہیں۔