کابل (بین الاقوامی ڈیسک) — افغانستان میں گزشتہ شب آنے والے شدید زلزلے نے ملک میں تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 1124 افراد جاں بحق اور 3251 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 8000 سے زائد مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں۔
سب سے زیادہ تباہی صوبہ کنڑ میں
افغان ہلالِ احمر کے مطابق زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان صوبہ کنڑ میں ہوا ہے، جہاں متعدد دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، مگر تباہ حال سڑکیں، مواصلاتی نظام کی بندش اور مسلسل آفٹر شاکس کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔
زلزلے کا مرکز اور شدت
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق:
شدت: 6.0
مرکز: ننگرہار کے قریب، جلال آباد
گہرائی: 8 کلومیٹر
وقت: رات 11:47 بجے
بعد از زلزلہ جھٹکا: 4.5 شدت، 20 منٹ بعد، 10 کلومیٹر گہرائی
یہ زلزلہ حالیہ برسوں میں افغانستان میں آنے والی سب سے تباہ کن قدرتی آفات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
ہزاروں بے گھر، انسانی بحران جنم لینے لگا
زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ فوری طور پر درج ذیل چیزوں کی شدید کمی کا سامنا ہے:
خیمے اور پناہ گاہیں
صاف پانی اور خوراک
ابتدائی طبی امداد
اسپتالوں میں جگہ اور طبی عملہ
طبی مراکز زخمیوں سے بھر چکے ہیں، اور موجودہ وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
عالمی برادری کا ردعمل
افغان حکومت نے بین الاقوامی برادری اور ہمسایہ ممالک سے ہنگامی امداد کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ، ریڈ کراس، اور دیگر عالمی اداروں نے ابتدائی ردعمل دیتے ہوئے امدادی ٹیمیں روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
متعدد ممالک نے زلزلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔





