کھیل

اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان

کراچی (27 اگست 2025) — پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اینٹی کرپشن قوانین کے نفاذ میں مزید سختی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے بھی کرپشن اور میچ فکسنگ کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کا شکنجہ تیار کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی کی گورننگ بورڈ میٹنگ میں لیگل ڈپارٹمنٹ کے حکام نے نئے قواعد و ضوابط کے حوالے سے بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی ہدایت پر گلوبل اینٹی کرپشن کوڈ کو مکمل طور پر اپنانے کے لیے پروسیجرل تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ بورڈ کے ارکان نے ان تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے۔

نئے قوانین کے تحت نہ صرف انٹرنیشنل بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی کرپشن سے متعلق سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ کرپشن میں ملوث کھلاڑیوں کو پابندیوں اور جرمانوں کی سخت سزا دی جائے گی، تاہم کھلاڑیوں کو اپیل کا حق بھی حاصل ہوگا۔

اہم بات یہ ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی یا متعلقہ فرد مشکوک رابطے کی قومی اینٹی کرپشن یونٹ کو اطلاع دینے میں ناکام رہا تو اسے بھی قصوروار قرار دیا جائے گا۔ مشکوک شخص سے تحفہ لینا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔

سزاؤں کا تعین جرم کی نوعیت، ارادے، سابقہ ریکارڈ اور تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ پہلی بار جرم کرنے والے اگر تحقیقات میں تعاون کریں گے تو انہیں کم سزا دی جائے گی، جبکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں پر کھیل کے دروازے تاحیات بند کیے جا سکتے ہیں۔

اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت میچ فکسنگ یا اسپاٹ فکسنگ پر پانچ سال سے تاحیات پابندی کی سزا دی جا سکتی ہے۔ کرکٹ پر شرط لگانے کی صورت میں کیس کی نوعیت کے مطابق ایک سے پانچ سال کی سزا کا سامنا ہو گا۔ ٹیم کی اندرونی معلومات لیک کرنے والے کو بھی ایک سے پانچ سال کی پابندی ہو سکتی ہے۔

اگر کوئی کھلاڑی کرپشن کی اطلاع نہ دے یا تحقیقات کے دوران جھوٹ بولے، ثبوت مٹائے یا تعاون سے انکار کرے تو اس پر دو سے پانچ سال کی پابندی عائد کی جائے گی۔ علاوہ ازیں، اینٹی کرپشن ایجوکیشن پروگرام میں عدم شرکت کرنے والے کھلاڑی کو بھی پابندی کا سامنا ہوگا۔

پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم کرپشن کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں اور کھیل کی شہرت کو داغدار کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ تمام کھلاڑیوں کو ان قوانین سے آگاہ کرنے اور تعلیم دینے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button