
کینبرا — آسٹریلیا نے اپنے ملک میں حالیہ یہودی مخالف حملوں میں مبینہ ایرانی مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آسٹریلوی حکومت نے تہران میں اپنا سفارتی عملہ بھی معطل کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ:
"ہم نے تہران میں اپنے سفارت خانے کی کارروائیاں فی الحال معطل کر دی ہیں، اور ایران کی مداخلت ناقابلِ قبول ہے۔”
وزیراعظم نے مزید اعلان کیا کہ حکومت ایران کے طاقتور عسکری ادارے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے جلد قانون سازی کرے گی۔
ایرانی سفارت کاروں کو 7 دن کی مہلت
آسٹریلوی وزیر خارجہ کے مطابق، ایران کے سفیر اور 3 دیگر اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 7 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کا مؤقف ہے کہ ان افراد کا رویہ اور سرگرمیاں ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔
حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کا الزام
حکام کے مطابق، آسٹریلیا میں حالیہ ہفتوں میں دو یہودی مخالف پرتشدد واقعات پیش آئے تھے، جن کی تفتیش کے دوران مبینہ طور پر ایرانی نیٹ ورک یا اثر و رسوخ کے شواہد سامنے آئے۔ تاہم ایران کی جانب سے تاحال کسی ردِعمل یا تردید کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
تعلقات میں مزید کشیدگی کا خدشہ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اقدام سے آسٹریلیا اور ایران کے درمیان تعلقات میں مزید تناؤ آ سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تو اس کے بین الاقوامی اور علاقائی اثرات مرتب ہوں گے۔