سائنس ٹیکنالوجی

مایا تہذیب کی تباہی کی اصل وجہ کیا تھی؟ ماہرین نے حیران کن انکشاف کر دیا

نیویارک / میکسیکو — ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور ماحولیاتی سائنسدانوں نے نئی سائنسی تحقیقات کی روشنی میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا کی عظیم ترین تہذیبوں میں سے ایک، مایا تہذیب کی تباہی کی اصل وجہ شدید اور طویل خشک سالی تھی، جو تقریباً 13 سال تک جاری رہی۔

یہ تہذیب، جو 800 سے 1000 عیسوی کے درمیان وسطی امریکا کے یوکاٹان کے علاقے میں اپنے عروج پر تھی، اچانک اپنے زوال کی طرف بڑھنے لگی۔ اب سائنسدانوں کے پاس اس زوال کی ٹھوس وجوہات کے شواہد موجود ہیں۔

سائنسی شواہد کیا کہتے ہیں؟

ماہرین نے جھیلوں کی تلچھٹ، فوسلز اور آثار قدیمہ سے ملنے والے نمونوں کی مدد سے ثابت کیا ہے کہ اس دور میں خطے میں 13 سال تک مسلسل بارش نہیں ہوئی۔

اس طویل قحط نے نہ صرف معیشت اور خوراک کے نظام کو متاثر کیا، بلکہ تہذیب کی جڑوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

قدرتی تباہ کاریاں جنہوں نے تہذیب کو برباد کیا:

زراعت مکمل طور پر تباہ ہوگئی
پانی کے تمام ذخائر خشک ہو گئے

قحط اور بھوک پھیل گئی

معاشرتی انتشار اور خانہ جنگیاں شروع ہو گئیں

اس ماحول میں مایا لوگوں کے لیے بقاء ممکن نہ رہا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اہرام، فلکیاتی کیلنڈر، اور بڑے شہروں کے بانی، مایا لوگ اچانک منظر سے غائب ہو گئے۔

آج کے لیے کیا سبق؟

ماہرین اس مثال کو ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) کے خطرات سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق:

"مایا تہذیب کا زوال اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر قدرتی وسائل کا غلط استعمال اور ماحولیاتی توازن بگڑ جائے، تو کتنی ہی ترقی یافتہ تہذیب کیوں نہ ہو، اس کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔”

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button