
تحقیق میں انکشاف: وزن کم کرنے والے انجیکشن مٹاپے کے مریضوں میں دمے کی علامات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونسٹس (GLP-1 RAs) نامی انجیکشن، جو مٹاپے کا شکار افراد میں دمے کی علامات کو قابو کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق، یہ ادویات خاص طور پر ایسے دمے کے مریضوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہیں جو اسٹیرائیڈز کے علاج کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔ جی ایل پی-1 RAs خون میں بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے، انسولین کی سطح کو مستحکم رکھنے اور بھوک کو کم کرنے کے لیے جی ایل پی-1 ہارمون کی نقل کرتے ہیں۔
یہ انجیکشنز ابتدا میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے بنائے گئے تھے، جن کی مشہور مثال "اوزیمپک” ہے۔ ماضی میں کی گئی مطالعات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ ادویات نیند میں سانس رکنے، ڈیمینشیا اور فالج جیسے امراض کے خطرے کو کم کر سکتی ہیں۔
یونیورسٹی آف ایبرڈین سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈیوڈ پرائس نے کہا کہ مٹاپے اور دمے کے مریضوں میں اسٹیرائیڈز کے روایتی علاج پر مزاحمت پائی جاتی ہے، اس لیے جی ایل پی-1 ایک مختلف اور مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادویات سانس کی نالیوں میں سوزش کو روایتی اسٹیرائیڈز سے مختلف انداز میں قابو پاتی ہیں۔
پروفیسر پرائس نے مزید کہا کہ تحقیق کے ابتدائی نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جی ایل پی-1 ادویات مٹاپے کے شکار دمے کے مریضوں میں علامات کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں، اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔