اوورسیز

"مزید کچھ کرنا چاہتا تھا، مگر روک دیا گیا” — اسرائیلی جارحیت پر نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ مستعفی

ایمسٹرڈیم (بین الاقوامی نیوز ڈیسک) — نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ کیسپر ویلڈکیمپ نے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کابینہ کو اسرائیل کے خلاف مزید مؤثر اقدامات پر قائل کرنے میں ناکام رہے۔

ویلڈکیمپ نے اپنے استعفے میں کہا:

"میں دیکھ رہا ہوں کہ غزہ کی سرزمین پر کیا ہو رہا ہے، اور اگرچہ کابینہ نے کچھ اقدامات کیے، لیکن جب میں نے مزید بامعنی اور عملی اقدامات کی کوشش کی، تو مجھے مسلسل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔”

کابینہ کی اندرونی تقسیم

کیسپر ویلڈکیمپ نے تسلیم کیا کہ نیدرلینڈز کی حکومت نے ماضی میں جو مؤقف اختیار کیا، اس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات ایسے ہیں جن میں زیادہ جرات مندانہ اور اخلاقی فیصلوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ اپنی حکومت کو فلسطینیوں کے حق میں سخت سفارتی اقدامات پر آمادہ نہ کر سکے۔

یورپی ممالک میں بڑھتا ہوا ردعمل

ویلڈکیمپ کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپ بھر میں اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے خلاف عوامی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حال ہی میں:

اسپین، آئرلینڈ، اور ناروے نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے اقدامات کیے۔

نیدرلینڈز میں ہزاروں شہری غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کی یاد میں ایمسٹرڈیم میں 8 ہزار جوتے رکھ کر احتجاج کر چکے ہیں۔

مظاہرین مسلسل حکومت سے اسرائیل کے خلاف سخت موقف اپنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سیاسی و سفارتی اثرات

کیسپر ویلڈکیمپ کے استعفے کو تجزیہ کار یورپی یونین کے اندر بڑھتی ہوئی اخلاقی و سیاسی کشمکش کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جہاں ایک جانب سفارتی تعلقات اور اسٹریٹجک مفادات ہیں، تو دوسری جانب عوامی رائے، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی آواز بلند ہو رہی ہے۔

یہ استعفیٰ ممکنہ طور پر نیدرلینڈز کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوگا اور پارلیمان و میڈیا میں اس فیصلے پر بحث بھی متوقع ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button