لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو اچانک طبیعت بگڑنے پر جناح اسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا۔ وہ اس وقت 9 مئی کے مقدمات میں گرفتاری کے بعد جیل میں قید تھے۔
ذرائع کے مطابق، چیمہ کو دل اور بلڈ پریشر سے متعلق پیچیدگیاں لاحق ہوئیں، جس کے بعد ڈاکٹروں نے فوری طور پر ای سی جی، بلڈ ٹیسٹ اور دیگر معائنے کیے تاکہ ان کی صحت کی درست تشخیص کی جا سکے۔ طبی عملے نے ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اور ٹیسٹ رپورٹس کی روشنی میں آئندہ علاج کا تعین کیا جائے گا۔
تحریک انصاف کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جیل میں سہولیات کی کمی اور ذہنی دباؤ ان کی بگڑتی ہوئی صحت کی بڑی وجوہات ہیں۔ پارٹی رہنماؤں نے ان کی اچانک خرابی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر عمر سرفراز چیمہ کو فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
PTI ترجمان کا کہنا ہے کہ "عمر سرفراز چیمہ نہ صرف ایک سینئر سیاسی شخصیت بلکہ ایک سابق آئینی عہدیدار بھی ہیں، ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک قابلِ افسوس ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر ضرورت ہو تو انہیں اسپیشلائزڈ ہسپتال منتقل کیا جائے۔”
واضح رہے کہ عمر سرفراز چیمہ تحریک انصاف کے متحرک اور نمایاں رہنما رہے ہیں اور پنجاب کے گورنر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی صحت کو لے کر عوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور صارفین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کی صحت مزید متاثر نہ ہو۔





