
بھارت کا نیا فضائی دفاعی نظام ’’سدرشن چکر‘‘: خطے کے امن کے لیے خطرہ یا دفاعی ضرورت؟
نئی دہلی / اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے ’’سدرشن چکر‘‘ کے نام سے ایک نئے فضائی دفاعی نظام کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جسے بھارت کی فوجی صلاحیت بڑھانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کار اس منصوبے کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
مذہبی استعارے کا عسکری استعمال، تنقید کی زد میں
نیا دفاعی نظام ’’سدرشن چکر‘‘ کا نام ہندو دیومالا سے منسلک ہے، جو کہ مذہبی استعارہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے ایک بار پھر مذہب کو عسکری سیاست میں شامل کر کے فوج کو ہندوتوا نظریے کا ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اسے "خودمختاری، درستگی اور مؤثر دفاعی ردعمل” کی علامت قرار دیا ہے۔
خود انحصاری یا دکھاوے کا دعویٰ؟
بھارتی میڈیا، بالخصوص ٹربیون انڈیا کے مطابق، مودی سرکار کا یہ منصوبہ ملکی دفاعی خود انحصاری کی سمت قدم سمجھا جا رہا ہے، تاہم ماضی میں بھارتی فضائیہ کی ’’کویری انجن‘‘ جیسی ناکامیاں اس بیانیے پر سوالیہ نشان ہیں۔ 1989 سے جاری کویری پراجیکٹ پر اب تک اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں، مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔
ماہرین کی رائے: سیاسی فائدہ یا دفاعی ضرورت؟
دفاعی ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے منصوبے اکثر سیاسی مفادات، قومی تشخص کے نعروں اور داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ بھارت میں غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی شدید کمی کے باوجود دفاعی اخراجات میں اضافہ ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
خطے میں امن کو لاحق خطرات
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے جارحانہ منصوبے جنوبی ایشیا کے پہلے سے نازک توازن کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔ مودی حکومت کے عسکری عزائم اور انتہا پسندانہ رجحانات نہ صرف خطے میں ایک نئی ہتھیاروں کی دوڑ کو جنم دے سکتے ہیں بلکہ پاکستان اور چین جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش؟
حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ "سدرشن چکر” جیسی مہمات دراصل بھارتی عوام کی توجہ روزمرہ مسائل، مہنگائی، غربت، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں سے ہٹانے کا ایک طریقہ ہیں، جبکہ اندرونی سطح پر جاری بے چینی کو قومی سلامتی کے بیانیے میں سمیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔