پاکستانتازہ ترین

طوفانی بارشیں: بونیر میں شادی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل، ایک ہی خاندان کے 21 افراد جاں بحق

بونیر: خیبرپختونخوا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے قادر نگر کی وہ دل دہلا دینے والی کہانی، جو اب تک نظروں سے اوجھل تھی، ۔ جہاں سرکاری امدادی ادارے ابھی تک نہ پہنچ سکے،

قادر نگر میں سیلابی ریلے میں 84 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں ایک ہی خاندان کے 21 افراد بھی شامل ہیں۔ ایک شادی کی تیاری میں مصروف خاندان کی خوشیاں، بادل پھٹنے اور پانی کے ریلوں کی نذر ہو گئیں، قوم کے سامنے آئی، جس نے عوامی اور سرکاری سطح پر توجہ کو فوری طور پر متاثرین کی طرف مبذول کروا دیا۔

حکومت حرکت میں آ گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر متاثرہ علاقوں میں اضافی امدادی سامان کی فوری ترسیل جاری ہے۔ بونیر، شانگلہ، مانسہرہ اور باجوڑ جیسے شدید متاثرہ علاقوں میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ سطحی نمائندے امدادی سرگرمیوں کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ہر متاثرہ خاندان تک فوری ریلیف پہنچ سکے۔

وفاقی وزراء کی براہ راست موجودگی جیسے انجینئر امیر مقام، اویس لغاری، سردار محمد یوسف اور مبارک زیب کا دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑ رہی۔

پاک فوج، ریسکیو ادارے اور فلاحی تنظیمیں بھی میدان میں سرگرم ہیں، جو خوراک، ادویات، خیمے اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی میں دن رات کام کر رہی ہیں۔ قادر نگر سمیت بونیر کے دیگر علاقوں میں ریلیف آپریشن تیز کر دیے گئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا:

"یہ وقت ایک قوم بن کر کھڑے ہونے کا ہے۔ ہم سیلاب متاثرین کو ہر ممکن سہارا فراہم کریں گے اور ان کے گھروں کو دوبارہ آباد کریں گے۔”

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button