
واشنگٹن / یروشلم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر اسرائیلی قبضے کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ اس معاملے میں کسی فریق کا مؤقف اختیار نہیں کرے گا، بلکہ اس کی ترجیح صرف اور صرف انسانی امداد پر مرکوز ہے۔
ایک صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال — "کیا امریکہ غزہ پر اسرائیلی قبضے کی حمایت کرتا ہے؟” — کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا:
"ہماری حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ غزہ کے محصور فلسطینیوں تک زیادہ سے زیادہ خوراک اور بنیادی ضروریات پہنچائی جائیں، باقی تمام فیصلے اسرائیل خود کرے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ خوراک کی تقسیم میں اسرائیل تعاون فراہم کرے گا، جب کہ عرب ممالک مالی امداد فراہم کریں گے تاکہ غزہ کے عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔
اسرائیل کا فوجی کنٹرول کا عندیہ
ادھر اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے سینیئر سیکیورٹی حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں غزہ پر مکمل فوجی کنٹرول کے حق میں حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، نیتن یاہو غزہ میں فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے پر غور کر رہے ہیں، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں اسرائیلی یرغمالیوں کی موجودگی کا شبہ ہے۔
فلسطینی بحران، عالمی سطح پر تشویش
غزہ کی صورتحال پر عالمی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا مطالبہ کر چکی ہیں کہ فریقین فوری طور پر سیزفائر کریں اور انسانی امداد کو بغیر کسی رکاوٹ کے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے دیا جائے۔





