
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے باضابطہ اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کی قیام کی مدت 30 جون کو ختم ہو چکی تھی، جس کے بعد انہیں 31 جولائی تک واپسی کے لیے مہلت دی گئی تھی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اب یکم اگست سے ان افراد کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس عمل میں جیل انتظامیہ اور متعلقہ ادارے غیر قانونی مقیم افراد کی شناخت اور بے دخلی میں حکومت کی معاونت کریں گے۔
وزارت داخلہ کے مطابق صرف وہ افغان شہری جن کے خلاف فارنرز ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت مقدمات زیر سماعت یا سزا یافتہ ہوں گے، انہیں قانون کے مطابق واپس بھیجا جائے گا۔ اس کے علاوہ کسی دیگر کیس میں ملوث افراد کو تاحکم ثانی ملک بدر نہیں کیا جائے گا۔
حکومت نے اس عمل کو شفاف، منصفانہ اور مرحلہ وار انداز میں مکمل کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی اصولوں کا بھی مکمل خیال رکھا جا سکے۔