
واشنگٹن/اسلام آباد (نیوز ڈیسک) – امریکا نے پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک پر نئی درآمدی ڈیوٹی نافذ کر دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے پاکستانی مصنوعات پر 19 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نئی پالیسی کے تحت یکم اگست سے مختلف ممالک سے درآمدات پر ٹیرف کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے عائد کردہ 19 فیصد ٹیرف، بھارت کے 25 فیصد ٹیرف سے کم ہے، جسے بعض ماہرین پاکستان کی تجارت کے لیے مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق:
بھارت پر 25 فیصد
کینیڈا پر 35 فیصد
بنگلہ دیش پر 20 فیصد
ترکیہ، افغانستان، اسرائیل پر 15 فیصد
جنوبی افریقہ پر 30 فیصد
ویتنام پر 20 فیصد
وینزویلا پر 15 فیصد
سوئٹزرلینڈ پر 39 فیصد
عراق پر 35 فیصد
جاپان پر 15 فیصد
لیبیا پر 30 فیصد
میانمار پر 40 فیصد
شام پر 41 فیصد
برطانیہ پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔
ایگزیکٹو آرڈر کے موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ "تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ امریکی معیشت اور سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا تھا، اس لیے ہم نے باہمی مشاورت اور سفارشات کی بنیاد پر یہ اقدامات کیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک نے امریکا سے کامیاب تجارتی مذاکرات کے بعد متوازن ٹیرف پر اتفاق کیا، جبکہ جن ممالک کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہو سکے، ان پر سخت ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان پر نسبتاً کم ٹیرف عائد ہونا ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدی شعبوں کے لیے ایک موقع ہو سکتا ہے، بشرطیکہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر برآمدی مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔