
شعیب ملک کا کرکٹ سے لازوال عشق — "جب تک وہیل چیئر پر نہ بیٹھ جاؤں، کھیلتا رہوں گا”
لاہور: پاکستان کے مایہ ناز آل راؤنڈر شعیب ملک نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ عمر صرف ایک عدد ہے، جذبہ، فٹنس اور لگن اگر ہو تو میدانِ کرکٹ میں عمر کی کوئی قید نہیں۔ ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز (WCL) 2025ء میں پاکستان چیمپئنز کی آسٹریلیا کے خلاف شاندار فتح کے بعد، شعیب ملک کا بیان شائقینِ کرکٹ کے دلوں کو چھو گیا۔
پوسٹ میچ پریزنٹیشن میں گفتگو کرتے ہوئے 43 سالہ شعیب ملک نے کہا:
"میں بھرپور نیند لیتا ہوں، صحت مند غذا کھاتا ہوں، مجھے اب بھی گراؤنڈ میں آ کر کھیلنے کا لطف آتا ہے اور میں اپنی کرکٹ سے محبت کرتا ہوں، یہی میری فٹنس کا راز ہے۔”
ریٹائرمنٹ سے متعلق سوال پر ان کا بےباک انداز سب کو بھا گیا۔
"میں تب تک کرکٹ کھیلوں گا جب تک میں وہیل چیئر پر نہ بیٹھ جاؤں۔”
یہ بیان سنتے ہی سوشل میڈیا پر شعیب ملک کا نام ٹرینڈ کرنے لگا، شائقین نے ان کے جذبے، پیشہ ورانہ رویے اور عزم کو خوب سراہا۔ شعیب ملک نہ صرف اپنی فٹنس سے نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیں بلکہ کرکٹ سے ان کی بےپناہ محبت بھی ہر عمر کے کھلاڑیوں کے لیے باعثِ ترغیب ہے۔
تجربہ، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کی اعلیٰ مثال بنے شعیب ملک نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ابھی بھی کرکٹ کے میدان میں ملک و قوم کا فخر بننے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔