
واشنگٹن / اسلام آباد / نئی دہلی:
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ روکنے کا کریڈٹ لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی سفارتی کوششوں نے دونوں ممالک کو تصادم سے بچایا۔ یہ 27ویں مرتبہ ہے کہ ٹرمپ نے اس معاملے پر کھل کر بات کی ہے۔
اسکاٹ لینڈ میں یورپی کمیشن کی سربراہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا، "پاکستان اور بھارت بڑی جنگ کے دہانے پر تھے، لیکن میری مداخلت سے حالات معمول پر آئے۔ میں نے دونوں ممالک سے تجارت کے موضوع پر بات کی اور کشیدگی کو کم کرایا۔”
واضح رہے کہ 10 مئی کو بھی ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت جنگ بندی پر متفق ہو چکے ہیں، جسے بعد ازاں کئی عالمی ذرائع نے رپورٹ کیا۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اس معاملے پر مسلسل خاموشی اپوزیشن کی تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی متعدد بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ مودی حکومت واضح کرے کہ اگر جنگ ہوئی تھی، تو بھارت کا کیا جانی و مالی نقصان ہوا؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا بار بار یہ دعویٰ کرنا ان کی انتخابی مہم کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی کامیاب سفارت کاری کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب، پاک بھارت وزرائے خارجہ یا دفاع کی جانب سے اس تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔