
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ترسیلات زر کی سہولت اسکیم جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ ورکرز ریمیٹنس انسینٹو اسکیم کے لیے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر فوری طور پر جاری کیے جائیں۔
وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا:
"بیرون ملک مقیم پاکستانی ہماری طاقت اور پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی محنت سے کمائی گئی ترسیلات زر پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، اور پوری قوم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔”
مالی سال 2025 میں، بیرون ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیجیں، جس کی بدولت 14 سال بعد ملک نے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا — ایک بڑی معاشی کامیابی!
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان ترسیلات سے نہ صرف درآمدی بل کی ادائیگی میں مدد ملی بلکہ زرِ مبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بیرون ملک محنت کرنے والے پاکستانیوں کے لیے ترسیلات زر کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور آسان بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
مزدور سے لے کر کاروباری شخصیات تک، تمام اوورسیز پاکستانی پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور حکومت ان کے لیے سہولیات مزید بڑھانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔