
راولپنڈی – بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ انصاف کا نظام بے بس ہوچکا ہے اور کارکنوں کو چن چن کر سزائیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بات اپنی بہنوں کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
علیمہ خان کے مطابق، وہ صبح 11 بجے سے توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے سلسلے میں جیل کے باہر موجود تھیں، مگر وکلا کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ "فیئر ٹرائل کیسے ممکن ہے جب وکلا کو مقدمے کی سماعت میں شامل ہونے سے روکا جائے؟” علیمہ خان نے سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ جج نے واضح ہدایات دیں کہ وکلا اور فیملی کو اندر آنے دیا جائے، مگر ان احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، یہ صورت حال اس بات کا ثبوت ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے اثرات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے ادارے دباؤ میں ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ ان کے وکلا نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ ان کی بھی گرفتاری کا خدشہ ہے، تاہم وہ کسی قسم کے خوف کا شکار نہیں۔ "ہمیں خوفزدہ لوگوں سے کوئی ڈر نہیں۔ ڈر ان کو ہے کہ بانی کا ایک لفظ بھی عوام تک نہ پہنچے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان بارہا 9 مئی کے واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کی فراہمی کا مطالبہ کر چکے ہیں اور عوام سے اپیل کر چکے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔
علیمہ خان نے زور دیا کہ وقت آ گیا ہے کہ قوم خود اپنی آزادی کے لیے نکلے۔ "5 اگست کو دیکھا جائے گا، پارٹی کا لائحہ عمل تیار ہے، اور عوام کو خود بھی باہر آنا ہوگا۔ یہ تحریک بانی کے بغیر بھی چل سکتی ہے، لیکن بانی جب باہر آئیں گے تو تحریک نئی طاقت کے ساتھ آگے بڑھے گی۔”