واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں منعقدہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے گوگل، مائیکروسوفٹ اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بھارت اور چین میں ملازمتیں پیدا کرنے کے بجائے امریکا میں نوکریوں کے مواقع فراہم کریں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا:
"یہ کمپنیاں چین میں فیکٹریاں بناتی رہیں، بھارت میں ملازمتیں دیتی رہیں اور آئرلینڈ میں منافع چھپاتی رہیں۔ امریکی شہریوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا، مگر اب وہ دن گئے۔”
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں جیتنے کے لیے حب الوطنی ضروری ہے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ امریکا کو ترجیح دیں اور مقامی افراد کو نوکریاں فراہم کریں۔
نئے صدارتی احکامات
ٹرمپ نے سمٹ کے دوران مصنوعی ذہانت سے متعلق تین نئے صدارتی احکامات پر بھی دستخط کیے، جن کا مقصد امریکا میں AI ٹیکنالوجی کو فروغ دینا اور مقامی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔
ایپل پر بھی دباؤ
یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ ڈالا ہو۔ اس سے قبل وہ ایپل کو بھارت میں آئی فونز تیار کرنے سے باز رہنے کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا:
"اگر ایپل نے اپنے آئی فونز امریکا میں تیار نہ کیے، تو انہیں 25 فیصد درآمدی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
عالمی سطح پر اثرات
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے ان بیانات سے عالمی سپلائی چین اور خاص طور پر بھارت، چین، اور آئرلینڈ جیسے ممالک میں ٹیک انڈسٹری کے روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، یہ پالیسیاں اگر نافذ کی گئیں تو امریکا میں روزگار کے مواقع بڑھنے کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
کیا یہ پالیسیاں قابلِ عمل ہیں؟
نقادوں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کمپنیاں "قیمت اور استعداد” کو مدنظر رکھ کر اپنے پیداواری فیصلے کرتی ہیں، اور ایسی پالیسیاں عالمی مقابلے میں امریکا کی پوزیشن کو مضبوط کر سکتی ہیں یا پھر نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں۔





