اوورسیزتازہ ترین

برطانوی وزیراعظم کا غزہ کے بحران پر شدید اظہارِ تشویش، فرانس و جرمنی سے ہنگامی مشاورت کا اعلان

لندن: برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے غزہ میں جاری انسانی بحران اور خوراک کی شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ فرانس اور جرمنی کے ساتھ ہنگامی مشاورت کریں گے تاکہ خطے میں جاری خونریزی کو روکا جا سکے اور فلسطینی عوام تک امداد کی فوری رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں برطانوی وزیراعظم نے غزہ کی صورتحال کو
"ناقابلِ بیان اور ناقابلِ دفاع انسانی المیہ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ:

"یہ بحران کئی ماہ سے جاری ہے، لیکن اب اس نے نئی شدت اختیار کر لی ہے، اور ہر دن کے ساتھ حالات مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔”

کیئر اسٹارمر کے مطابق وہ جمعہ کے روز فرانس اور جرمنی کے حکام سے مشاورت کریں گے تاکہ ایک مشترکہ یورپی موقف سامنے لایا جا سکے، جس کے ذریعے فلسطینی عوام کے لیے بلا رکاوٹ انسانی امداد کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسرائیل سے فوری اقدامات کا مطالبہ
برطانوی وزیراعظم نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی فوری، مکمل اور غیر مشروط رسائی ممکن بنائے، تاکہ بھوک اور قحط سے مرنے والے فلسطینیوں کو بچایا جا سکے۔

غزہ: ایک قحط زدہ خطہ
یاد رہے کہ اسرائیلی محاصرے اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ مصر کی سرحد پر سینکڑوں امدادی ٹرک موجود ہونے کے باوجود انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق غذائی قلت کے باعث کم از کم 115 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ اسرائیلی حملوں اور محاصرے کو اب تک 21 ماہ گزر چکے ہیں۔

عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ
کیئر اسٹارمر کے اس بیان کو مبصرین ایک سفارتی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ برطانیہ طویل عرصے سے اسرائیل کا اہم اتحادی رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یورپی طاقتیں ایک مؤثر، متحدہ موقف اپناتی ہیں تو یہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کی جانب ایک عملی قدم ہو سکتا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button