اسلام آباد / کابل: پاکستان اور افغانستان نے ترجیحی تجارتی معاہدے (Preferential Trade Agreement) پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان 44 اشیاء پر ٹیرف میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ معاہدہ یکم اگست 2025 سے مؤثر ہوگا اور ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے نافذ رہے گا، تاہم یہ قابلِ تجدید ہے۔
معاہدے پر دستخط افغان نائب وزیر صنعت و تجارت ملا احمداللہ زاہد اور پاکستان کے سیکریٹری تجارت جواد پال نے کیے۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے ارلی ہارویسٹ پروگرام (Early Harvest Program) پر بھی اتفاق کیا۔
نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری بیان میں معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ:
"اس معاہدے کے تحت پاکستان سے آم، کینو، کیلا اور آلو افغانستان برآمد کیے جائیں گے، جبکہ افغانستان سے انگور، انار، سیب اور ٹماٹر پاکستان درآمد ہوں گے۔ ان اشیاء پر ٹیرف کی شرح 60 فیصد سے کم ہو کر 27 فیصد کر دی گئی ہے۔”
معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ مستقبل میں مزید اشیاء کو شامل کیا جا سکتا ہے، اور دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت اور معاشی تعاون کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق ظاہر کیا ہے۔





