تہران / واشنگٹن (بین الاقوامی میڈیا) — ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ حالیہ امریکی فضائی حملوں کے باعث ایران کی ایٹمی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور اس کے نتیجے میں ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت عارضی طور پر معطل ہو گئی ہے۔
ایٹمی پروگرام جاری رہے گا
وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ:
"یورینیم افزودگی کا عمل عارضی طور پر رکا ہے، لیکن ایران کا اپنے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ہم اسے بحال کریں گے۔”
براہِ راست نہیں، لیکن مزاکرات کے لیے تیار ہیں
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران امریکا سے مزاکرات کا دروازہ بند نہیں کر رہا، لیکن یہ مزاکرات براہِ راست نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران عالمی ثالثی کے ذریعے بات چیت کے لیے تیار ہے، مگر اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایران اسرائیل کشیدگی اور امریکی حملہ
یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان 13 جون سے 12 روزہ جنگ جاری رہی، جس میں دونوں جانب سے بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے۔ جنگ کے دوران ہی 22 جون کو امریکی فضائیہ کے B-2 بمبار طیاروں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا، جس سے ایران کی جوہری سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچا۔
پچھلے مزاکرات اور حالیہ تعطل
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مزاکرات کے 5 دور پہلے ہی مکمل ہو چکے تھے، جن میں یورینیم افزودگی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر بات چیت ہو رہی تھی۔ تاہم حالیہ کشیدگی اور فضائی حملوں نے ان سفارتی کوششوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
عالمی ردعمل متوقع
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے یہ بیان عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خصوصاً اقوام متحدہ، آئی اے ای اے اور دیگر متعلقہ اداروں میں، جہاں ایران کے ایٹمی پروگرام اور علاقائی استحکام پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔





