
پشاور – خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر کامیاب امیدواروں کی حلف برداری کے معاملے پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے اپوزیشن جماعتوں کی درخواست پر گورنر خیبرپختونخوا کو حلف برداری کی تقریب کی نگرانی کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ تقریب کل (پیر) صبح 9 بجے منعقد ہوگی۔
پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام، اے این پی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر کیا گیا، جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین سے تاحال حلف نہیں لیا گیا، جو کہ سینیٹ انتخابات سے قبل آئینی تقاضہ ہے۔
اجلاس بغیر حلف برداری ملتوی
خیبرپختونخوا اسمبلی کا آج ہونے والا اجلاس مخصوص نشستوں پر حلف کے بغیر ہی کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا۔ اس پیش رفت پر اپوزیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے عدالت نے گورنر کو حلف لینے کے لیے نامزد کیا۔
امیروں کا مؤقف
امیر مقام نے اس پیش رفت کو "آئین کی فتح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں پر کامیاب امیدواروں کی حلف برداری اب ہر صورت کل صبح ہو گی، جس کیلئے تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف اور خط
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی اس حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کو خط لکھا تھا، جس میں درخواست کی گئی کہ سینیٹ انتخابات کی آئینی نوعیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر حلف برداری کا عمل یقینی بنایا جائے۔ الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 255 (2) کے تحت چیف جسٹس سے حلف کیلئے مجاز شخصیت نامزد کرنے کی درخواست کی تھی۔
مخصوص نشستوں کی تفصیل
خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر 25 اراکین نے آج حلف اٹھانا تھا، جن میں:
21 خواتین
4 اقلیتی ارکان شامل تھے۔
پارٹی وائز تفصیل کچھ یوں ہے:
مسلم لیگ (ن): 7
جمعیت علمائے اسلام (ف): 7
پیپلزپارٹی: 4
اے این پی: 2
پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز: 1
سیاسی منظرنامہ بدلنے کا امکان
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مخصوص نشستوں پر ممبران کی بحالی سے اپوزیشن کی تعداد 52 اراکین تک پہنچ گئی ہے، جس سے صوبائی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ ان اراکین کے حلف کے بعد وہ سینیٹ انتخابات میں بھی حصہ لینے کے اہل ہوں گے، جو سیاسی لحاظ سے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔