اوورسیزتازہ ترین

ایرانی وزیر خارجہ کا عندیہ: جوہری مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک):
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے، تاہم اس کے لیے امریکا کی مخلصانہ نیت اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر چینی نشریاتی ادارے چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (CGTN) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے، اور جوہری تنازع کا ایسا حل تلاش کیا جانا چاہیے جس سے دونوں فریق فائدہ اٹھا سکیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے 2015 کے ایٹمی معاہدے کو سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اس وقت ممکن ہوا جب دونوں فریقین نے سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کو ترجیح دی۔ ان کے بقول، "صرف بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات ہی ہمیں ایک متوازن اور دیرپا حل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ایران بین الاقوامی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے، لیکن یکطرفہ پابندیاں اور سیاسی دباؤ مذاکراتی عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی پرامن حل کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ دوسرا فریق بھی نیک نیتی سے آگے بڑھے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button