واشنگٹن / کیف (نیوز ڈیسک): ایوارڈ یافتہ تحقیقی صحافی سیمئور ہرش نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو جبری طور پر ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کے مطابق اگر زیلنسکی نے از خود استعفیٰ نہ دیا تو انہیں زبردستی عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔
ہرش کا کہنا ہے کہ زیلنسکی کے استعفیٰ کی توقع نہیں کی جا رہی، اس لیے امریکی حکام نے ان کے ممکنہ متبادل کے طور پر یوکرینی فوج کے سابق کمانڈر انچیف اور موجودہ برطانیہ میں یوکرینی سفیر ویلیئری زالزنی کا نام زیر غور رکھا ہے۔ یہ تبدیلی آئندہ چند ماہ کے اندر متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور کیف میں کئی حلقوں کا ماننا ہے کہ یوکرین میں جنگ ختم ہونی چاہیے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے کسی نہ کسی سطح پر سمجھوتہ ممکن ہے۔ ان کے مطابق جنگ کی طوالت نے یوکرینی عوام، فوج اور معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اندرونی و بیرونی سطح پر تبدیلی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ صدر زیلنسکی کے عہدے کی آئینی مدت 20 مئی 2024 کو ختم ہو چکی ہے، تاہم جاری جنگ کے پیشِ نظر حکومت نے صدارتی انتخابات کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس فیصلے پر یوکرین کے اندر اور باہر سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر سیمئور ہرش کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے، تو یہ یوکرین کی سیاسی قیادت اور جنگی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، جو مستقبل میں روس-یوکرین تنازع کے رخ کو بھی بدل سکتا ہے۔





