
لاہور – پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی پیر اشرف رسول نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے سستے یونٹس کی حد کو 200 سے بڑھا کر 400 یونٹ کیا جائے تاکہ کم آمدنی والے صارفین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
پیر اشرف رسول نے سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ بجلی کے بلوں میں اصلاحات سے عوامی بے چینی کم ہوگی اور ڈیفالٹ کرنے والے صارفین کی تعداد میں کمی آئے گی۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ نیپرا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بلنگ تنازعات کے فوری ازالے کی ہدایات دی جائیں تاکہ صارفین کا اعتماد بحال ہو۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی نہ صرف صارفین کے لیے فائدہ مند ہوگی بلکہ ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
قائمہ قومی اسمبلی کی توانائی کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس مسئلے پر بات ہوئی، جہاں سوال اٹھایا گیا کہ کیوں 200 یونٹ تک صارفین کے بل 5000 روپے تک آتے ہیں مگر 201 یونٹ ہونے پر بل 15 ہزار تک پہنچ جاتا ہے۔
کمیٹی کے رکن رانا سکندر حیات نے کہا کہ لائف لائن والے صارفین کے لیے 200 یونٹ تک بل مقررہ حد تک ہوتا ہے، مگر 201 یونٹ سے وہ پروٹیکٹڈ صارف نہیں رہتے اور ان پر بل بہت زیادہ آجاتا ہے، جس سے عوام میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ کم از کم چھ ماہ تک صارفین کو نان پروٹیکٹڈ نہیں کیا جائے تاکہ عوام کو سانس لینے کا موقع ملے