پاکستانتازہ ترین

مون سون کا قہر جاری:: 24 گھنٹوں میں 54 قیمتی جانیں ضائع،راولپنڈی و اسلام آباد میں ہائی الرٹ

اسلام آباد: ملک بھر میں جاری شدید مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 54 افراد جاں بحق اور 227 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق رواں مون سون سیزن کا آغاز 26 جون سے ہوا اور اب تک مختلف حادثات میں مجموعی طور پر 178 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 85 بچے بھی شامل ہیں، جب کہ 491 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں کی بڑی وجہ مکانات کا گرنا، بجلی کا کرنٹ لگنا اور سیلابی ریلے بتائی گئی ہے۔

جڑواں شہروں میں موسلا دھار بارش، نالہ لئی میں خطرے کی گھنٹی
راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ رات سے جاری موسلا دھار بارش نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا ہے۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے، جس پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے قریبی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق جڑواں شہروں میں 250 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ راولپنڈی کے نشیبی علاقے، خصوصاً ڈھوک کھبہ، شدید متاثر ہیں جہاں پانی جمع ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پنجاب میں دفعہ 144 نافذ: تیراکی اور نہانے پر پابندی
پنجاب حکومت نے شدید بارشوں اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے عوامی مقامات، ڈیموں، دریاؤں، نہروں، جھیلوں اور تالابوں میں تیراکی اور نہانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

پابندی کا اطلاق 30 اگست 2025 تک رہے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ان مقامات پر بلا اجازت کشتی رانی پر بھی پابندی ہوگی، جب کہ بارش کے پانی میں گلیوں یا سڑکوں پر نہانے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔

حکام کی عوام سے اپیل
محکمہ داخلہ، این ڈی ایم اے اور مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button