اوورسیزتازہ ترین

سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر امریکا کا محتاط ردعمل، ترجمان کا جواب دینے سے گریز

واشنگٹن:
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ "میرے پاس اس مخصوص موضوع پر کہنے کے لیے فی الحال کچھ نہیں”۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر بعد میں تفصیلی جواب دیا جائے گا۔

ٹیمی بروس امریکی محکمہ خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں، جہاں مختلف بین الاقوامی امور پر سوالات کیے گئے۔ سندھ طاس معاہدے پر امریکی مؤقف جاننے کے سوال پر ترجمان نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

اسرائیل و شام، غزہ اور روس پر مؤقف
پریس کانفرنس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ "اسرائیل اور شام کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے امریکا اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔” غزہ کی حالیہ صورتحال پر انہوں نے کہا کہ

"جنگ بندی کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اور لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے غزہ میں ہلاکتوں کی ذمہ داری حماس پر عائد کی۔

روس اور یوکرین کے حوالے سے امریکی پالیسی
روس اور یوکرین کی کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ٹیمی بروس نے کہا کہ

"صدر ٹرمپ روس کے حالیہ رویے سے خوش نہیں ہیں، لیکن وہ روس-یوکرین تنازع کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔”

پسِ منظر:
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں بھارتی میڈیا اور حکام کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا عندیہ دیا گیا ہے، جس پر پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ عالمی برادری بالخصوص امریکا کی جانب سے اس حساس مسئلے پر کوئی واضح ردعمل نہ آنا جنوبی ایشیا میں پانی کے تنازعے کی حساسیت کو مزید اجاگر کر رہا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button