
راولپنڈی، 16 جولائی — سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو کرپشن کیس میں بڑا ریلیف مل گیا ہے، جب لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے احتساب عدالت کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے ان کی ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی۔
جسٹس شہرام سرور اور جسٹس ساجد محمود سیٹھی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پرویز الٰہی کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر سماعت کی۔ عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کو باقاعدہ کارروائی کے لیے منظور کر لیا۔
پرویز الٰہی کے وکلاء، سردار عبدالرزاق خان اور عامر سعید راں، نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کی عمر زیادہ ہے اور وہ لاہور میں زیر علاج ہیں، جس کے باعث ان کے لیے ہر پیشی پر عدالت میں حاضر ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹرائل کورٹ نے ان کی استثنیٰ کی درخواست کو غیر قانونی طور پر مسترد کیا۔
سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ وہ استثنیٰ کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں۔ پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی کی صحت کی حالت ایسی نہیں جو انہیں ذاتی حاضری سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دے۔
عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے پرویز الٰہی کو نیب عدالت میں پیش ہونے سے وقتی استثنیٰ دے دیا اور نیب کو آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
یہ فیصلہ پرویز الٰہی کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے اور یہ ان کے خلاف جاری کرپشن مقدمے کی آئندہ کارروائی پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔