اوورسیزتازہ ترین

"بھارت تیسری بڑی معیشت؟ مگر پُل گر رہے ہیں، سڑکیں دھنس رہی ہیں” — مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلیٰ کی مودی سرکار پر کڑی تنقید

ممبئی/نئی دہلی: بھارت میں بنیادی ڈھانچے کی زبوں حالی نے مودی حکومت کے معاشی ترقی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ریاست مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے وزیر اعظم نریندر مودی کی معاشی پالیسیوں اور ترقی کے دعووں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے:

"اگر ملک میں پل گر رہے ہوں، سڑکیں بیٹھ رہی ہوں، اور لوگ مر رہے ہوں — تو ایسی ترقی کا کیا فائدہ؟”

اجیت پوار کا بیان مون سون کے حالیہ اسپیل کے دوران پلوں، سڑکوں اور عمارتوں کے گرنے کے بڑھتے واقعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ وہ بی جے پی کے اتحادی ہونے کے باوجود کھل کر مودی سرکار کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں، جو سیاسی حلقوں میں غیر معمولی تصور کیا جا رہا ہے۔

زمینی حقیقت: انفراسٹرکچر کا بحران
دی وائر کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت بھر میں ہونے والے متعدد واقعات نے حکومت کی تعمیراتی شفافیت اور معیار پر سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں:

10 جولائی: گروگرام میں بارش کے بعد سڑک دھنس گئی، ٹرک گڑھے میں جا گرا۔

9 جولائی: وڈودرا، گجرات میں پل گرنے سے 20 افراد جاں بحق۔

4 جولائی: ممبئی میں 250 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ فلائی اوور پر صرف چند دن بعد ہی گڑھے پڑ گئے۔

15 جون: پونے میں اندریانی ندی پر پل گرنے سے 4 افراد ہلاک۔

اڑیسہ: سمبل پور میں 60 کروڑ کا فلائی اوور 2 ماہ سے بھی کم مدت میں منہدم ہو گیا۔

ترقی بمقابلہ حقیقت
وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا تھا کہ بھارت جلد دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن جائے گا۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی میں اضافہ بنیادی سہولیات، عوامی فلاح اور برابری کے فقدان کو چھپا نہیں سکتا۔

بین الاقوامی انتباہ بھی نظرانداز
برطانوی ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ بھارت میں متعدد پرانے پل اپنی عمر پوری کر چکے ہیں اور ان کا استعمال خطرناک ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے مناسب اقدامات نہ ہونے پر عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

سیاسی اندرونی اختلافات کی جھلک
اجیت پوار کا بیان اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ بی جے پی کے اتحادیوں کے درمیان بھی ناراضگی بڑھ رہی ہے اور مودی حکومت کے ترقیاتی ماڈل پر داخلی تنقید اب کھلے عام ہونے لگی ہے۔

نتیجہ: کیا صرف ترقی کا دعویٰ کافی ہے؟
بھارت کا دعویٰ کہ وہ جلد دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن جائے گا، اس وقت عوام کے لیے غیر تسلی بخش محسوس ہوتا ہے جب سڑکیں بیٹھ رہی ہوں، پل گر رہے ہوں اور لوگ جانوں سے جا رہے ہوں۔ اگر بنیادی انفراسٹرکچر محفوظ نہ ہو، تو معاشی ترقی کی چمک عام شہری کی زندگی کو روشن کرنے میں ناکام رہے گی۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button