
واشنگٹن: نیٹو کے نئے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے روس کے ساتھ جاری تیل و گیس کی تجارت پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت، چین اور برازیل سمیت تمام تجارتی شراکت داروں کو ثانوی پابندیوں کی وارننگ دے دی ہے۔
امریکی سینیٹرز سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارک روٹے نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن امن مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، تو نیٹو اور اس کے اتحادی ان تمام ممالک پر معاشی دباؤ بڑھائیں گے جو ماسکو کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
"اگر آپ بیجنگ، دہلی یا برازیلیا میں بیٹھے ہیں، تو بہتر ہوگا کہ آپ روس کے ساتھ اپنے تعلقات پر فوری نظرِ ثانی کریں، کیونکہ مجوزہ معاشی پابندیاں آپ کی معیشت کو بری طرح متاثر کر سکتی ہیں،” — مارک روٹے
نیٹو سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین جنگ میں شدت کے باوجود روس کے کچھ بڑے تجارتی شراکت دار — خاص طور پر بھارت اور چین — روسی توانائی پر انحصار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مارک روٹے کے اس سخت بیان کو روس پر دباؤ بڑھانے کی نئی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف روس کی معیشت کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے بلکہ روس کے اتحادی یا غیر جانبدار ممالک کو بھی عالمی سطح پر واضح پیغام ہے کہ غیر جانب داری کی گنجائش ختم ہو رہی ہے۔