پاکستانتازہ ترین

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے گرد قانونی دائرہ مزید سخت — عدالتوں کی جانب سے گرفتاری کے احکامات جاری

اسلام آباد/راولپنڈی/فیصل آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عمر ایوب خان کو قانونی محاذ پر مشکلات کا سامنا ہے، جہاں ان کے خلاف دہشتگردی اور توہین عدالت کے مقدمات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

عبوری ضمانتیں خارج، گرفتاری کے احکامات
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت (ATC) نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق درج دس مختلف مقدمات میں عمر ایوب خان کی عبوری ضمانتیں خارج کر دی ہیں۔ عدالت نے عدم پیروی کو بنیاد بناتے ہوئے انہیں فوری طور پر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان مقدمات میں عمر ایوب کو مرکزی کردار قرار دیا گیا ہے اور عدالت میں بارہا طلبی کے باوجود ان کی عدم پیشی نے ان کے قانونی دفاع کو کمزور کیا ہے۔

فیصل آباد عدالت کی کارروائی — توہین عدالت کا نوٹس
ادھر فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بھی عمر ایوب کو نو مئی کے مقدمات میں پیش نہ ہونے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے سی پی او فیصل آباد کو ہدایت کی ہے کہ وہ عمر ایوب کو 18 جولائی کو ہر صورت عدالت میں پیش کریں۔

الیکشن کمیشن میں نااہلی کی درخواست پر سماعت مؤخر
اسی سلسلے میں ایک اور قانونی محاذ پر بھی کارروائی جاری ہے، جہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمر ایوب کے خلاف نااہلی کی درخواست پر سماعت کی۔ یہ ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ عمر ایوب آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت صادق و امین نہیں رہے۔

عمر ایوب الیکشن کمیشن کی سماعت میں بھی پیش نہیں ہوئے۔ درخواست گزار بابر نواز خان نے کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے ان پر الزامات دہرائے۔ تاہم الیکشن کمیشن حکام نے آگاہ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے اس معاملے پر حکمِ امتناع جاری کیا ہوا ہے، اور پانچ اگست کو اس پر سماعت متوقع ہے، جس کے باعث کمیشن نے سماعت مؤخر کر دی۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button