
اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت… خودکشی یا سوچی سمجھی سازش؟
کراچی: نوجوان اداکارہ حمیرا اصغر کی پر اسرار موت نے نیا اور سنسنی خیز رخ اختیار کر لیا ہے، جس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ کراچی کے ایک فلیٹ سے مردہ حالت میں برآمد ہونے والی اداکارہ کی زندگی کا آخری باب اب محض خودکشی کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ اس میں قتل کے خدشات گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
آخری کال… فریاد یا پیغامِ مدد؟
حمیرا کی بھابھی، ہما سہیل، نے بتایا کہ اداکارہ نے اپنی زندگی کی آخری کال کے دوران شدید ذہنی دباؤ اور مالی مشکلات کا اظہار کیا تھا۔ ہما کے مطابق:
"وہ بہت پریشان تھی، اُس کی آواز میں بےبسی تھی… اُس نے اپنی ماں سے مدد مانگی، مگر انکار ہو گیا۔”
اس گفتگو نے تحقیقات کا رخ مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کیا یہ محض مالی پریشانی تھی، یا کچھ اور چھپایا جا رہا ہے؟
لاش لینے سے انکار… خونی رشتوں کی سرد مہری
ایک اور چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ حمیرا کی لاش کئی دن تک اسپتال میں بے یار و مددگار پڑی رہی۔ ہما سہیل کے مطابق:
"نہ والد نے، نہ بھائی نے پولیس سے رابطہ کیا۔ حتیٰ کہ لاش لینے سے بھی انکار کر دیا گیا۔”
یہ رویہ خاندانی تعلقات پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ کیا یہ بے حسی تھی، یا کوئی اور خوف؟
قتل کا شبہ… فلیٹ کی کھلی کھڑکی ایک اشارہ؟
ہما سہیل نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق:
"حمیرا زندگی سے محبت کرنے والی لڑکی تھی، وہ کبھی خودکشی نہیں کر سکتی… کھڑکی کھلی کیوں تھی؟ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہو سکتی ہے۔”
پولیس ذرائع کے مطابق، فلیٹ سے حاصل شدہ شواہد کو مزید فرانزک جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے، اور تحقیقات جاری ہیں۔
خاموش اہل خانہ… راز یا لاپرواہی؟
اہلِ محلہ اور قریبی ذرائع کے مطابق، اداکارہ کی گمشدگی کے دوران نہ تو کسی نے رپورٹ درج کرائی، نہ سوشل میڈیا پر کوئی آواز بلند کی گئی۔ یہ خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ایک نوجوان لڑکی، جو شوبز میں قدم جما رہی تھی، آخر ایسی تنہائی کا شکار کیوں ہوئی؟